December 23, 2017 Shamail Khan

“Sawal”

کیاپایا؟؟“

اور وہ اس بات کا جواب ہی سوچتی رہ گئی۔۔کیا واقعی اس کا جواب دینا آسان تھا؟؟

اسے پہاڑ کی چوٹی پر کنارے کے بالکل قریب کھڑی لڑکی یاد آئی تھی۔۔ جس نے شدت سے یہ چاہا تھا کہ وہ اس بلند چوٹی سے حد نگاہ تک گہرائی میں نظر آتے جنگل کی طرف چھلانگ لگا دے۔ اس کا وجود ان درختوں سے ٹکرا کر فنا ہوجائے۔جینے کی ہر خواہش جیسے ختم ہی ہوگئی تھی۔شاید وہ ایسا کر بھی گزرتی۔ایک آواز نے سوچوں کے تسلسل میں خلل ڈالا تھا۔ Adaptive! Head Count..

سر جھٹک کر پھر اس نے نیچے اترنا شروع کیا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر وہیں سے جڑ گیا تھا جہاں ٹوٹا تھا۔”ایسا کیوں ہے؟؟شاید میں بہت زیادہ سوچتی ہوں اسلئے؟؟یا شاید میں حد سے زیادہ حساس ہوں اس لئے۔۔شاید میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت بڑا سمجھنے لگتی ہوں اسلئے۔“

پلٹ کر اک نگاہ پہاڑ کی چوٹی پر ڈالتے ہوئے اسے یہ خیال آیا کہ ”کاش میں بھی ان پہاڑوں کی طرح ہوتی۔۔سخت، سنگ دل، کچھ بھی نہ محسوس کرنے والے۔۔دھرتی پر غرور کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے ہونے والے۔۔“یہ سوچ آتے ہی اسے لگا جیسے زمین اس کے قدموں تلے لرزی تھی۔پہاڑ نے اس کے خیال کی نفی کی تھی۔۔کیا واقعی پہاڑ ایسے تھے؟؟ اسے پھر سے سوچنا پڑا تھا۔وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی تھی۔آنکھیں موندے،ہلکی ہلکی خنکی بھری ہوا کو محسوس کرتے اسے لگا تھا کہ اس کا جسم ہلکا پھلکا ہوگیا ہے۔روح تروتازہ ہوگئی ہے۔اس کی سوچوں نے نئے رخ اختیار کیے تھے۔۔۔

اب احساس ہورہا تھا۔۔یہ اتنے بلند پہاڑ جنہیں گردن اٹھا کر دیکھنا پڑتا ہے نا۔۔یہ تو بالکل مغرور نہیں ہیں۔یہ کتنے ہمدرد ہیں۔تھکن نچوڑ لیتے ہیں۔ہماری روح اور جسم کا تمام بوجھ اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔ہماری پریشانیوں کو اپنے اندرد جذب کرلیتے ہیں۔صرف خود ہی تن کر نہیں کھڑے بلکہ زمین کو بھی سرکنے سے بچا لیتے ہیں۔ان کی سختی تو ہماری ہی حفاظت کیلئے ہے۔کتنے احسان ہیں ہم پر ان پہاڑوں کے۔

ہرہر پہاڑ نجانے کتنی داستانیں اپنے اندر سموئے بیٹھا ہے۔ کتنے ہی راز ان کے سینوں میں دفن ہیں۔یہ پہاڑ مجھے داستانیں سناتے ہیں۔ان لوگوں کی جن کے قدم یہاں سے گزرے۔ان میں سے کتنے ہی راستے سے ہی لوٹ گئے۔وہ اس ظاہری سخت مزاجی کو سہہ نہیں پائے۔اور جوچلتے رہے حوصلے کے ساتھ ان کے لئے پہاڑوں نے اپنی بانہیں کھول دیں۔ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور زندگی پھر کیلئے نہ بھولنے والے رہنما سبق دیے۔نا ختم ہونے والا حوصلہ، کبھی نہ ٹوٹنے والی ہمت، کبھی نہ بھولنے والے نظارے،روح کو نئی زندگی بخشنے والا سکون، دنیا کو تسخیر کرلینے کی جرات، پیہم جدوجہد کا درس اور ہزاروں لاکھوں راز سینوں میں دبا کر پرسکون رہنے کا سبق۔آندھی، طوفان، زلزلہ ہر ایک کے سامنے سینہ سپرہوجانے کا ہنر۔۔کسی کی آواز کانوں میں گونجی تھی۔۔”Never Give Up“۔۔مارخورکا سبق۔۔

اپنا آپ خوش قسمت محسوس ہورہا ہے۔لاکھوں کروڑوں انسانوں میں سے اللہ نے مجھے چنا تھا۔یہ احساس دلانے کیلئے کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے۔کتنی شدت سے اللہ ربی چاہتے ہیں کہ میں ان کی طرف لوٹ آؤں۔مجھے لاہور سے اٹھا کر پائے کے مقام پر لاکھڑا کیا۔نجانے کتنے عرصے سے یہ پہاڑ منتظر تھے کہ ایک لڑکی آئے گی،مایوسیوں کا شکار ہوگی۔قدم لڑکھڑاتے ہوں گے۔۔پریشان حال ہوگی۔زندگی کا سفر ختم کرنا چاہتی ہوگی۔وہ آئے گی اور ہم اس کے سارے درد و غم اس پرسکون ہوامیں تحلیل کردیں گے۔اپنے نشیب و فراز سے اس کو زنگی کے نشیب و فراز طے کرنے کیلئے مضبوطی بخشیں گے۔کتنا خوبصورت احساس ہے یہ۔۔Chosen one ہونے کا۔۔الحمدللہ۔۔کیا واقعی یہ سب میں سوچ رہی تھی اس وقت؟؟

اور پھر زبان سے الفاظ نکلے تو بس یہ۔۔”احسانمند ہوں میں ان پہاڑوں کی۔۔احسانمند ہوں میں Youth Impact کی جس نے مجھے حوصلہ دیا اس سفر کو طے کرنے کا۔خودآگاہی کا۔جینے کا فن سکھانے کا۔۔امید کے ٹمٹماتے ہوئے دیے کو روشن چراغ میں بدل دینے کا۔ایک مورخور کی طرح جینے کا ڈھنگ عطاکرنے کا۔۔

پس منظرمیں ایک آواز ابھری تھی۔”جس جس نے نماز پڑھنی ہے آجائے۔جماعت ہونے والی ہے۔“لبوں پر اک مسکراہٹ دوڑگئی۔وہ بھی تو منتخب کردہ ہے نا۔۔جب ہی تو سب اس کے ”فین“ ہیں۔۔وہ اللہ کا محبوب ہے اللہ نے اسے سب کا محبوب بنا دیا۔۔وہ صحیح معنوں میں ایک مارخور ہے۔۔اور یقینا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کون ہے۔۔۔!!

Fatima Tahir

https://www.facebook.com/gulelaala949